پردۂ مہمل اٹھے تو رازِ ویرانہ کھُلے
رازِ ویرانہ کھلے تب جا کے دیوانہ کھلے
بارِ ہفت افلاک بھی اس ناتواں شانے پہ ہے
زلف سے کہنا کہ آہستہ سرِ شانہ کھلے
قامتِ پروانہ، قدِ شمع سے کم ہے ابھی
اس قدر مۓ اسکے پیمانے میں آتی جاۓ گی
جس قدر بھی جس پہ تہہ دارئ پیمانہ کھلے
سب پہ کھلنے کی ہمیں ہی آرزو شاید نہ تھی
ایک دو ہوں گے کہ ہم جن پر فقیرانہ کھلے
احمد فرید
No comments:
Post a Comment