Thursday, 15 December 2016

جب سے اک چاند کی چاہت میں ستارہ ہوا ہوں

جب سے اک چاند کی چاہت میں ستارا ہوا ہوں
شہرِ شب زاد کی آنکھوں کا سہارا ہوا ہوں
اے مِرے درد کے دریا کی روانی، مجھے دیکھ
میں تِرے قرب سے کٹ کٹ کے کنارا ہوا ہوں
زندگی! تجھ سا منافق بھی کوئی کیا ہو گا
تیرا شاہکار ہوں اور تیرا ہی مارا ہوا ہوں
سامنے پھر مِرے اپنے ہیں سو میں جانتا ہوں
جیت بھی جاؤں تو یہ جنگ میں ہارا ہوا ہوں
زخم گنتا ہوں شب ہجر میں اور سوچتا ہوں 
میں تو اپنا بھی نہ تھا کیسے تمہارا ہوا ہوں
میں پیمبر ہوں نہ ہو سکتا ہوں پھر بھی احمدؔ
ایسا لگتا ہے سرِ خاک اتارا ہوا ہوں

احمد فرید

No comments:

Post a Comment