Thursday, 15 December 2016

ریتی پہ نبی پاک کی تحریر کا غم ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام

ریتی پہ نبی پاکﷺ کی تحریر کا غم ہے
اور دشت میں بکھری ہوئی تصویر کا غم ہے
چھننے کو بیاباں میں ہے پھر تیری کمائی
اے فاطمہؑ زہراؑ تِری جاگیر کا غم ہے
حُرمت کے مہینے میں روا قتل کیا ہے
بدلی گئی قرآن کی تفسیر کا غم ہے
چلنے کو ہیں تیار تجھے چھوڑ کے تنہا
صغریٰؑ تیری قسمت تِری تقدیر کا غم ہے
پانی سے بھری مشک کے بہ جانے کا دُکھ ہے
معصوم کی گردن میں لگے تیر کا غم ہے
کچھ دھوپ کی حدت سے بھڑکتی ہوئی رہ کا
کچھ قیدیوں کے پاؤں میں زنجیر کا غم ہے
اغیار کے مجمع میں، شرابی کے مقابل
تطہیر کی وارث تِری تقریر کا غم ہے

عارف خواجہ

No comments:

Post a Comment