عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
ریتی پہ نبی پاکﷺ کی تحریر کا غم ہے
اور دشت میں بکھری ہوئی تصویر کا غم ہے
چھننے کو بیاباں میں ہے پھر تیری کمائی
اے فاطمہؑ زہراؑ تِری جاگیر کا غم ہے
حُرمت کے مہینے میں روا قتل کیا ہے
چلنے کو ہیں تیار تجھے چھوڑ کے تنہا
صغریٰؑ تیری قسمت تِری تقدیر کا غم ہے
پانی سے بھری مشک کے بہ جانے کا دُکھ ہے
معصوم کی گردن میں لگے تیر کا غم ہے
کچھ دھوپ کی حدت سے بھڑکتی ہوئی رہ کا
کچھ قیدیوں کے پاؤں میں زنجیر کا غم ہے
اغیار کے مجمع میں، شرابی کے مقابل
تطہیر کی وارث تِری تقریر کا غم ہے
عارف خواجہ
No comments:
Post a Comment