مِرے احباب کہتے ہیں
غزل اور نظم میں عشق و محبت کے فسانے کیوں نہیں لکھتے؟
بہاریں اور بہاروں میں کِھلے گلرنگ پھولوں کی
قطاریں دل کی مستی کا سبب کیونکر نہیں بنتیں؟
تِری نظمیں
گھٹاؤں اور برستے بادلوں کی پینگ میں سکھیوں کے سنگ
ساون کے گیتوں کی مدھر لے پر بکھرتے قہقہوں، گلکاریوں کا کیا ہوا
آخر؟
مِرے احباب سے کہہ دو
بہاروں میں کھلے گلرنگ پھولوں کی جگہ، پامال جسموں اور سروں کی فصل دِکھتی ہو
دھنک رنگوں کے جھولے میں
دریدہ اور لہو میں ڈوبے بچوں کی نگاہیں اس سزا اور جرم کی بابت سوالی ہوں؟
گھٹاؤں اور برستے بادلوں سے خوں ٹپکتا ہو
مدھر لے پر بکھرتے قہقہوں، گلکاریوں پر؛ ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کے بَین بھاری ہوں
تو ایسے میں
غزل اور نظم میں عشق و محبت کے فسانے کون لکھے گا
عارف خواجہ
No comments:
Post a Comment