تھا گِراں پہلے جو مجھ پر اس پہ گزرا شاق اب
سب حسابِ زندگانی کر دیئے بے باق اب
خوش گمانی میں رکھا اک عمر تک تُو نے ہمیں
کھو چکی اے زندگی تُو اپنا استحقاق اب
جو کبھی شعلہ فشاں تھا اب اسی کے جسم سے
ہجر کے آئین کا اور عشق کے دستور کا
ہم پہ تو پہلےسے تھا، اس پر ہُوا اطلاق اب
یا الٰہی! کیا ستم ہے کیا عجب ہے ماجرا
وہ بھی میری دید کے رہنے لگے مشتاق اب
کیا مجالِ دشمناں موزوں کریں ایسی غزل
کر رہا ہوں اِس زمیں سے دشمنوں کو عاق اب
دشمنِ جاں ہجر ہے دونوں کا، سو اِس کے خلاف
آؤ، کر لیں وصل کا ہم تم نیا میثاق اب
کچھ خبر ان کو گریباں چاک کرنے کی نہیں
آبلہ پائی سے بھی واقف نہیں عشاق اب
کرتے جاتے ہیں مسلسل اک کے بعد اک اور عشق
زہر سے ہم نے نکالا زہر کا تریاق اب
وصل نے غم کا قلمداں سونپ ڈالا ہجر کو
ہوتے جائیں گے سیہ دل کے سبھی اوراق اب
روشنی کے قتل میں شامل رہی رنگین شام
خوں میں جو ڈوبے ملے ہیں انفس و آفاق اب
عارف خواجہ
No comments:
Post a Comment