Saturday, 10 October 2020

وقت رخصت جو مری آنکھ میں پانی آیا

 وقتِ رخصت جو مِری آنکھ میں پانی آیا

پھر سمجھ، لفظِ محبت کا معانی آیا

آج پھر شہر سے ہجرت کا کہا ہے اس نے

کل ہی میں کر کے یہاں نقل مکانی آیا

ناخدا! تُو ذرا کشتی کو سنبھالے رکھنا

میں ابھی روک کے دریا کی روانی آیا

یہ نیا شہر، نئے لوگ، نئی بزمِ خیال

اور میں لے کے یہاں سوچ پرانی آیا

کوچۂ ہجر میں ہم کیا کہ وہاں سے اکثر

عشق بھی کرتا ہوا اشک فشانی آیا

شاعری کا جو یہاں ذکر ہوا ہے یارو

بزمِ عشاق میں عدنان بھی یعنی آیا


عدنان راجا

No comments:

Post a Comment