کسی بات پر بھی چراغ پا نہیں ہو رہا
تُو یہ شکر کر کہ میں لب کشا نہیں ہو رہا
یہ جو وصل ہے ابھی زرد رُو ہے نہ جانے کیوں
یہ جو پیڑ ہے یہ ہرا بھرا نہیں ہو رہا
ابھی ابتدائی ہے مرحلہ تِرے قرب کا
یہ جو لمس ہے ابھی ذائقہ نہیں ہو رہا
تجھے جلد اپنی خبر کروں گا، کہاں ہوں میں
مِرا اپنے آپ سے رابطہ نہیں ہو رہا
تِرے نقشِ پا مٹے جا رہے ہیں ہواؤں سے
تِرا راستہ، مِرا راستہ نہیں ہو رہا
تِرے عکس کو جو گریز ہے تو یونہی سہی
تِرے واسطے، میں بھی آئینہ نہیں ہو رہا
کئی دن سے رم نہیں کر رہا وہ غزال بھی
کئی دن سے میں بھی غزل سرا نہیں ہو رہا
تِرے باب میں کوئی بات کیا ہو کہ ان دنوں
مِرا خود سے بھی تو مکالمہ نہیں ہو رہا
خاور اسد
No comments:
Post a Comment