Sunday, 5 January 2014

حقیقت میں کوئی ہمدرد، چارہ گر نہیں ہوتا

حقیقت میں کوئی ہمدرد، چارہ گر نہیں ہوتا
 سرِ منظر جو ہوتا ہے پسِ منظر نہیں ہوتا
 کبھی دشتِ تمنا میں، کبھی شہرِ خیالاں میں
 ہم ایسے لوگ پنچھی ہیں ہمارا گھر نہیں ہوتا
 ہماری آنکھ کے سپنے، ہمارا کل اثاثہ ہیں
 ہمیں لٹنے اجڑنے کا کہیں بھی ڈر نہیں ہوتا
 دلوں کو زیر کرنے کے لئے حکمت ضروری ہے
کوئی خنجر اٹھا لینے سے طاقتور نہیں ہوتا
 یہاں فنکار لوگوں کی کوئی عزت نہیں، لیکن
 انہیں دستار مل جاتی ہے جن کا سر نہیں ہوتا
 لہو آنکھوں کا، دل کے اشک لازم شاعری میں ہیں
 فقط الفاظ بننے سے کوئی شاعر نہیں ہوتا

 عدنان راجا

No comments:

Post a Comment