Tuesday, 23 March 2021

خود سے جدا ہوئے نہ تیری ذات میں رہے

 خود سے جدا ہوئے نہ تیری ذات میں رہے

ہم یونہی شامِ غم کی حوالات میں رہے

اک شہرِ خواب ہم نے بسایا تھا، اور پھر

اس میں رہے نہ اس کے مضافات میں رہے

کس عرصۂ فریب کی وحشت میں تھے کہ ہم

دن میں ہی رہ سکے نہ کہیں رات میں رہے

میں جس کے روز و شب میں زمانوں سے قید ہوں

مر جائے وہ اگر میرے حالات میں رہے

کیوں چھینتا ہے مجھ سے میرا سایۂ وجود

سورج سے کوئی کہہ دو کہ اوقات میں رہے

ہر بار کوئی بات ادھوری رہا کرے

ہر بار تشنگی سی ملاقات میں رہے


اظہر نقوی

No comments:

Post a Comment