وہ آرزو کہ دلوں کو اداس چھوڑ گئی
مِری زباں پہ سخن کی مٹھاس چھوڑ گئی
لکھی گئی ہے مِری صبح کے مقدر میں
وہ روشنی جو کرن کا لباس چھوڑ گئی
اٹھی تھی موج جو مہتاب کے کنارے سے
زمیں کے گرد فلک کی اساس چھوڑ گئی
یہ کس مقامِ تمنا سے بے خودی گزری
یہ کس کا نام پسِ التماس چھوڑ گئی
چراغِ زیست سے اتری تھی ایک حرف کی لو
جلو میں اپنے مِرا اقتباس چھوڑ گئی
گزر گئی ہے افق سے سیاہ شب، لیکن
جوارِ صبح میں خوف و ہراس چھوڑ گئی
گھٹا اٹھی تھی کسی تشنگی کے صحرا سے
جو قطرہ قطرہ سمندر کی پیاس چھوڑ گئی
مِری خموش لبی مجھ میں رات بھر گونجی
صدائیں کتنی مِرے آس پاس چھوڑ گئی
یہ کس خیال کی پرچھائیں تھیں منڈیروں پر
تمام شہر کو محوِ قیاس چھوڑ گئی
بسی جو آ کے زمیں میں صمد شناخت مِری
مِرے بدن میں سجا کر حواس چھوڑ گئی
صمد انصاری
No comments:
Post a Comment