نفرتیں اچھی لگیں سب رنجشیں اچھی لگیں
آپ کی ناکام ساری کوششیں اچھی لگیں
ہم نے تیری جستجو میں ساری دنیا دیکھ لی
پاؤں سے لپٹی ہوئی یہ گردشیں اچھی لگیں
اک سوا تیرے نظر آتا نہیں کوئی مجھے
چشمِ نرگس پہ یہ تیری بندشیں اچھی لگیں
دور ہوں گر آپسے تو پارسائی بھی بری
آپ کے ہمراہ ساری لغزشیں اچھی لگیں
نیلوفر نور
No comments:
Post a Comment