اداس قلب و نظر تھے، کلام کیا کرتے
نظر سے وہ نہ پلاتے تو جام کیا کرتے
وہ جونہی سامنے آئے تو ہوش رخصت تھا
اسی میں ڈوب گئے ہم، سلام کیا کرتے
وہ جاں سے پیارے تھے سو جان ان پہ وار گئے
نہ حکم مانتے ان کا، غلام کیا کرتے
ہم ان کی راہ میں پلکیں بچھا کے بیٹھے ہیں
اور اس سے بڑھ کے بھلا احترام کیا کرتے
یقین تھا وہ نہ آئیں گے ہمارے گھر میں کبھی
سجا کے ہم در و دیوار، بام، کیا کرتے
اقبال شاہ
No comments:
Post a Comment