عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
باغِ مدحت میں گلفشانی کی
عمر بھر ہم نے باغبانی کی
میرے ہونٹوں نے چوما ان کانام
میری سانسوں نے نعت خوانی کی
نامِ احمدﷺ سے رکھا بس مطلب
یوں بسر اپنی زندگانی کی
غیرتِ عشقِ مصطفیٰﷺ نے سدا
ان کی حُرمت کی پاسبانی کی
میں تو برباد ہو گیا ہوتا
میرے آقاﷺ نے مہربانی کی
اصلِ ایمان ہے ثنا خوانی
یہ کمائی ہے عمرِ فانی کی
شکریہ یادِ مصطفیٰﷺتیرا
تُو نے ہر شب مِری سہانی کی
حکم چلتا ہے جن کا دریا پر
نا ملی ان کو بُوند پانی کی
روشنی بن گئی لحد کے لیے
نعت لکھی ہوئی جوانی کی
ساری اصنافِ شعر پر مظہر
نعتِ سرورؐ نے حکمرانی کی
مظہر حسین مظہر
No comments:
Post a Comment