خاک چہرے پہ ملنے والا ہے
زرا سورج پگھلنے والا ہے
اب سمندر تمام لاشوں کو
ساحلوں پر اُگلنے والا ہے
ٹوٹتے جا رہے ہیں آئینے
سارا منظر بدلنے والا ہے
آسماں پر سیاہ بادل ہیں
اب مِرا شہر جلنے والا ہے
کس نے مٹی کی آبرو رکھ لی
کون گھر سے نکلنے والا ہے
اب کے یلغار ہو قیامت کی
میرا لشکر سنبھلنے والا ہے
شور زیرِ زمین ہے اظہر
کوئی چشمہ اُبلنے والا ہے
اظہر نقوی
No comments:
Post a Comment