Tuesday, 13 April 2021

خاک چہرے پہ ملنے والا ہے

 خاک چہرے پہ ملنے والا ہے

زرا سورج پگھلنے والا ہے

اب سمندر تمام لاشوں کو

ساحلوں پر اُگلنے والا ہے

ٹوٹتے جا رہے ہیں آئینے

سارا منظر بدلنے والا ہے

آسماں پر سیاہ بادل ہیں

اب مِرا شہر جلنے والا ہے

کس نے مٹی کی آبرو رکھ لی

کون گھر سے نکلنے والا ہے

اب کے یلغار ہو قیامت کی

میرا لشکر سنبھلنے والا ہے

شور زیرِ زمین ہے اظہر

کوئی چشمہ اُبلنے والا ہے


اظہر نقوی

No comments:

Post a Comment