ایک فتنہ سا اٹھایا ہے چلا جائے گا
وقت بے وقت جو آیا ہے چلا جائے گا
شہر کو سارے جلانے کے لیے نکلا تھا
اب جو گھر میرا جلایا ہے چلا جائے گا
بیٹھنا ہے تو گھنے پیڑ کے نیچے بیٹھو
یہ تو دیوار کا سایا ہے، چلا جائے گا
وہ تو آتا ہے اندھیرے ہی میں ڈسنے کے لیے
اب تو ہر سمت اُجالا ہے، چلا جائے گا
اس نے چُپ رہ کے بھی طُوفان اٹھائے کتنے
آج کُہرام مچایا ہے، چلا جائے گا
سوچ کے آیا تھا دنیا میں سب اپنے ہوں گے
اپنا سایا بھی پرایا ہے، چلا جائے گا
غم کے آنے کا کوئی غم نہیں ہم کو اصغر
اپنی مرضی ہی سے آیا ہے، چلا جائے گا
اصغر ویلوری
No comments:
Post a Comment