Tuesday, 13 April 2021

ایک فتنہ سا اٹھایا ہے چلا جائے گا

 ایک فتنہ سا اٹھایا ہے چلا جائے گا

وقت بے وقت جو آیا ہے چلا جائے گا

شہر کو سارے جلانے کے لیے نکلا تھا

اب جو گھر میرا جلایا ہے چلا جائے گا

بیٹھنا ہے تو گھنے پیڑ کے نیچے بیٹھو

یہ تو دیوار کا سایا ہے، چلا جائے گا

وہ تو آتا ہے اندھیرے ہی میں ڈسنے کے لیے

اب تو ہر سمت اُجالا ہے، چلا جائے گا

اس نے چُپ رہ کے بھی طُوفان اٹھائے کتنے

آج کُہرام مچایا ہے، چلا جائے گا

سوچ کے آیا تھا دنیا میں سب اپنے ہوں گے

اپنا سایا بھی پرایا ہے، چلا جائے گا

غم کے آنے کا کوئی غم نہیں ہم کو اصغر

اپنی مرضی ہی سے آیا ہے، چلا جائے گا


اصغر ویلوری

No comments:

Post a Comment