نعتِ رسولِ مقبولﷺ
نعت کی بزمِ ادب میں آج صہبا میں بھی ہوں
دست بستہ لفظ بھی ہیں، دست بستہ میں بھی ہوں
میں سمو لایا ہوں شعروں میں بنامِ مصطفٰیﷺ
روشنی کا وہ سمندر جس کا پیاسا میں بھی ہوں
ایک بے سایہ کا سایہ ساتھ رہتا ہے سدا
وہ نہ ہوتے تو کہاں ہوتا مِرا اپنا وجود
زندگی یوں ہے کہ ان کا ایک صدقہ میں بھی ہوں
خاک کے ٹوٹے ہوئے دل جوڑنے والا ہے تُو
سُن اے شیشوں کے مسیحا! دل شکستہ میں بھی ہوں
جب سخن کی داد ملتی ہے سکوتِ عرش سے
تب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ گویا میں بھی ہوں
صہبا اختر
No comments:
Post a Comment