Monday, 5 December 2016

جسے لکھ لکھ کے خود بھی رو پڑا ہوں

جسے لکھ لکھ کے خود بھی رو پڑا ہوں
میں اپنی روح کا وہ مرثیہ ہوں
مِری تنہائیوں کو کون سمجھے
میں سایہ ہوں مگر خود سے جدا ہوں
سمجھتا ہوں نوا کی شعلگی کو
سکوتِ حرف سے لمس آشنا ہوں
کوئی سورج ہے فن کا تو مجھے کیا
میں اپنی روشنی میں سوچتا ہوں
مِرا صحرا ہے میری خود شناسی
میں اپنی خامشی میں گونجتا ہوں
کسی سے کیا ملوں اپنا سمجھ کر
میں اپنے واسطے بھی نارسا ہوں

صہبا اختر

No comments:

Post a Comment