Friday, 6 January 2017

گزر چکا ہے زمانہ وہ انکساری کا

گزر چکا ہے زمانہ وہ انکساری کا
کہ اب مزاج بنا لیجیۓ شکاری کا
ہم احترمِ محبت میں ‌سر جھکاتے ہیں
غلط نکال نہ مفہوم خاکساری کا
وہ بادشاہ بنے بیٹھے ہیں مقدر سے مگر
مزاج ان کا ہے اب تک وہی بھکاری کا
سب اسکے جھوٹ کو بھی سچ سمجھنے لگتے ہیں
وہ ایک ڈھونگ رچاتا ہے شرمساری کا
جنہیں بلندی پہ پہنچنا ہے جست بھرتے ہیں
وہ انتظار نہیں کرتے کبھی اپنی باری کا

منظر بھوپالی

No comments:

Post a Comment