Friday, 6 January 2017

گلاب خار دوا، زہر جام کیا کیا ہے

گلاب، خار، دوا، زہر، جام کیا کیا ہے
میں آ گیا ہوں، بتا انتظام کیا کیا ہے
فقیر، شاہ، قلندر، امام، کیا کیا ہے
تجھے پتہ نہیں تیرا غلام کیا کیا ہے
امیرِ شہر کے کچھ کاروبار یاد آئے
میں رات سوچ رہا تھا حرام کیا کیا ہے 
میں تم کو دیکھ کر ہر بات بھول بیٹھا ہوں
تم ہی بتاؤ! مجھے تم سے کام کیا کیا ہے
زمیں پر سات سمندر، سروں پر سات آکاش
میں کچھ نہیں ہوں، مگر اہتمام کیا کیا ہے 

راحت اندوری

No comments:

Post a Comment