ہماری جیب سے جب بھی قلم نکلتا ہے
سیاہ شب کے خداؤں کا دم نکلتا ہے
تمہارے وعدوں کا قد بھی تمہارے جیسا ہے
کبھی جو ناپ کے دیکھو تو کم نکلتا ہے
وطن پہ مٹنے کا جب بھی سوال آتا ہے
یہ اتفاق ہے منظؔر کہ کوئی سازش ہے
ہمیشہ کیوں مِرے گھر سے ہی بم نکلتا ہے
منظر بھوپالی
No comments:
Post a Comment