Friday, 6 January 2017

قریب موت کھڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ

قریب موت کھڑی ہے، ذرا ٹھہر جاؤ
قضا سے آنکھ لڑی ہے، ذرا ٹھہر جاؤ
تھکی تھکی سی فضائیں، بجھے بجھے تارے
بڑی اداس گھڑی ہے، ذرا ٹھہر جاؤ
نہیں امید کہ ہم آج کی سحر دیکھیں
یہ رات ہم پہ کڑی ہے، ذرا ٹھہر جاؤ
ابھی نہ جاؤ کہ تاروں کا دل دھڑکتا ہے
تمام رات پڑی ہے، ذرا ٹھہر جاؤ
پھر اسکے بعد کبھی ہم نہ تم کو روکیں گے
لبوں پہ سانس اڑی ہے، ذرا ٹھہر جاؤ
دمِ فراق میں جی بھر کے تمہیں دیکھ تو لوں
یہ فیصلے کی گھڑی ہے، ذرا ٹھہر جاؤ

سیف الدین سیف

No comments:

Post a Comment