Friday, 6 January 2017

دلوں کو توڑنے والو تمہیں کسی سے کیا

دلوں کو توڑنے والو تمہیں کسی سے کیا
ملو تو آنکھ چرا لو، تمہیں کسی سے کیا
ہماری لغزشِ پا کا خیال کیوں ہے تمہیں
تم اپنی چال سنبھالو تمہیں کسی سے کیا
چمک کے اور بڑھاؤ،۔ مِری سیہ بختی
کسی کے گھر کے اجالو تمہیں کسی سے کیا
نظر بچا کے گزر جاؤ میری تربت  سے
کسی پہ خاک نہ ڈالو تمہیں کسی سے کیا
مجھے خود اپنی نظر میں بنا کے بے گانہ
جہاں کو اپنا بنا لو، تمہیں کسی سے کیا
قریبِ نزع بھی کیوں  چین لے سکے کوئی
نقاب رخ سے اٹھا لو تمہیں کسی سے کیا

سیف الدین سیف

No comments:

Post a Comment