Friday, 6 January 2017

رات ہو دن سوگوار ہے تو

رات ہو دن سوگوار ہے تُو 
اے غمِ دل! سدا بہار ہے تو
اے اجل! آ کہ لوگ کہتے ہیں 
تیرہ بختوں کی غمگسار ہے تو
ہائے خوش فہمیاں محبت کی 
میں سمجھتا تھا شرمسار ہے تو
گریۂ خوں ٹھہر ٹھہر کے برس 
باغ کی آخری بہار ہے تو
وہ تو رسوا ہے اب زمانے میں 
سیؔف جس غم کا پردہ دار ہے تو 

سیف الدین سیف

No comments:

Post a Comment