صدا دیتی ہے خوشبو چاند تارے بول پڑتے ہیں
نظر جیسی نظر ہو تو نظارے بول پڑتے ہیں
تمہاری ہی نگاہوں نے کہا ہے ہم سے یہ اکثر
تمہارے جسم پر تو رنگ سارے بول پڑتے ہیں
مہک جاتے ہیں گل جیسے صبا کے چوم لینے سے
اگر لہریں مخاطب ہوں کنارے بول پڑتے ہیں
زبان سے بات کرنے میں جہاں رسوائی ہوتی ہے
وہاں خاموش آنکھوں کے کنارے بول پڑتے ہیں
چھپانا چاہتے ہیں ان سے دل کا حال ہم، لیکن
ہمارے آنسوؤں میں غم ہمارے بول پڑتے ہیں
تیری پابندیوں سے رک نہیں سکتیں یہ فریادیں
اگر ہم چپ رہیں تو زخم سارے بول پڑتے ہیں
منظر بھوپالی
No comments:
Post a Comment