Tuesday, 6 October 2020

صدا دیتی ہے خوشبو چاند تارے بول پڑتے ہیں

 صدا دیتی ہے خوشبو چاند تارے بول پڑتے ہیں

نظر جیسی نظر ہو تو نظارے بول پڑتے ہیں

تمہاری ہی نگاہوں نے کہا ہے ہم سے یہ اکثر

تمہارے جسم پر تو رنگ سارے بول پڑتے ہیں

مہک جاتے ہیں گل جیسے صبا کے چوم لینے سے

اگر لہریں مخاطب ہوں کنارے بول پڑتے ہیں

زبان سے بات کرنے میں جہاں رسوائی ہوتی ہے

وہاں خاموش آنکھوں کے کنارے بول پڑتے ہیں

چھپانا چاہتے ہیں ان سے دل کا حال ہم، لیکن

ہمارے آنسوؤں میں غم ہمارے بول پڑتے ہیں

تیری پابندیوں سے رک نہیں سکتیں یہ فریادیں

اگر ہم چپ رہیں تو زخم سارے بول پڑتے ہیں


منظر بھوپالی

No comments:

Post a Comment