ملے نہیں تو بہت جلد بھول جاؤں گی
تمام عمر میں آنسو نہیں بہاؤں گی
سوائے ماں کے کوئی اور خاک سمجھے گا
تمہاری یاد میں جب روٹیاں جلاؤں گی
تم اپنے رسم و رواجوں کو اپنے پاس رکھو
حدود اپنے لیے آپ میں بناؤں گی
کہانی کار ذرا سوچ لے، کہ لوگوں کو
میں ہنستے ہنستے ہوئے کس طرح ہنساؤں گی
ہمیشہ ذہن میں رکھنا میں ایک عورت ہوں
میں ضد پہ آئی تو اک پل میں بھول جاؤں گی
نئے زمانے کی اک بے جھجھک سی لڑکی ہوں
اگر کہوں گی غزل تو میں پھر سناؤں گی
اے عشق ذہن میں رکھنا کہ وقت آنے پر
میں اپنے بابا کی پگڑی پہ واری جاؤں گی
آسیہ شوکت آسی
No comments:
Post a Comment