Friday, 16 April 2021

ملے نہیں تو بہت جلد بھول جاؤں گی

 ملے نہیں تو بہت جلد بھول جاؤں گی

تمام عمر میں آنسو نہیں بہاؤں گی

سوائے ماں کے کوئی اور خاک سمجھے گا

تمہاری یاد میں جب روٹیاں جلاؤں گی

تم اپنے رسم و رواجوں کو اپنے پاس رکھو

حدود اپنے لیے آپ میں بناؤں گی

کہانی کار ذرا سوچ لے، کہ لوگوں کو

میں ہنستے ہنستے ہوئے کس طرح ہنساؤں گی

ہمیشہ ذہن میں رکھنا میں ایک عورت ہوں

میں ضد پہ آئی تو اک پل میں بھول جاؤں گی

نئے زمانے کی اک بے جھجھک سی لڑکی ہوں

اگر کہوں گی غزل تو میں پھر سناؤں گی

اے عشق ذہن میں رکھنا کہ وقت آنے پر

میں اپنے بابا کی پگڑی پہ واری جاؤں گی


آسیہ شوکت آسی

No comments:

Post a Comment