ہر کسی کے ہے سمجھنے کی نہ سمجھانے کی بات
عشق کیا ہے، جیتے جی بے موت مر جانے کی بات
داستانِ قیس کو سمجھے تھے دیوانے کی بات
اک حقیقت بن گئی آخر کو افسانے کی بات
رخ نے کی زلفوں کی اور زلفوں نے کی شانے کی بات
اور الجھتی ہی چلی جاتی ہے سلجھانے کی بات
یہ تو ہوتا ہے بڑے ہی حوصلہ والوں کا کام
کب سہل ہے، آنکھوں ہی آنکھوں میں پی جانے کی بات
کر لیں خود لیلیٰ وشوں نے بستیاں اپنی تباہ
یوں ہی کہہ دی تھی مجنوں نے کہیں ویرانے کی بات
اِن بتوں کو دیکھ کر شانِ خدا یاد آ گئی
یوں حرم تک جا کے پہنچی ہے صنم خانے کی بات
جانے کیا، ظالم نے چپکے سے اشارہ کر دیا
رات بھر روئی ہے شمع سن کے پروانے کی بات
کوئی مطلب ہی کا فقرہ ہاتھ آجاتا تمہیں
عقل والو، اک ذرا سن لیتے دیوانے کی بات
ہم تو کہتے ہیں کہ مسلم وزن رکھتی ہے ضرور
قصۂ دیر و حرم پر ایک مے خانے کی بات
مسلم مالیگانوی
No comments:
Post a Comment