تِری تلاش، تِری جستجو اترتی ہے
مِرے شعور کے کاغذ پہ تو اترتی ہے
سنوارنے کے بجائے سنورنے لگتا ہے
جب آئینے کے مقابل میں تو اترتی ہے
تُو میرے نام سے منسوب ہے زمانے میں
تُو کچھ کرے تو مِری آبرو اترتی ہے
میں دل کے پاک سے خانے میں اس کو رکھتا ہوں
تمہاری یاد بہت با وضو اترتی ہے
میں ایسا رِندِ بلا نوش مے کدے کا ترے
مِرے لیے مئے جام و سبو اترتی ہے
تِری صفات میں تحلیل ہو گیا ہوں میں
ہر اک ادا میں مِری تیری خُو اترتی ہے
یہ نیند جس کو زمانہ سکوں سمجھتا ہے
ہمارے جسم پہ مثلِ عدو اترتی ہے
یہ شاعری کے عناصر بھی قدرتی ہیں جناب
کہ فکر و فن کی ترنگوں سے بو اترتی ہے
حنیف راہی
No comments:
Post a Comment