ایسے کٹھن سمے میں بھی وہ میرے ساتھ تھی
میرے مقابلے پہ جب اک کائنات تھی
کھیلے بہت سے کھیل میں نے زندگی میں پر
ہر کھیل میں لکھی ہوئی میری ہی مات تھی
شہرِ دل اب ہوا ہے بیابان کی طرح
کہ جیسے تیرا جانا کوئی واردات تھی
بڑھ چڑھ کے کچھ نہیں ہے بتایا میں نے اسے
اس سے محبت اتنی کی جتنی بساط تھی
کونین حیدر
No comments:
Post a Comment