پیچ و خم وقت نے سو طرح اُبھارے لوگو
کاکل زیست مگر ہم نے سنوارے لوگو
اپنے سائے سے تمہیں آپ ہے دہشتزدگی
تم ہو کس مصلحت وقت کے مارے لوگو
ہمسفر کس کو کہیں کس کو سنائیں غم دل
پنبہ در گوش ہوئے سارے سہارے لوگو
ضربتِ سنگ بنے اپنی صدا کے غنچے
گنبدِ جہد میں ہم جب بھی پکارے لوگو
مجھ سے تم دور بھی رہ کر ہو رگِ جاں سے قریب
مِرے نادیدہ رفیقو! مِرے پیارے لوگو
ادیب سہیل
No comments:
Post a Comment