Saturday, 8 January 2022

زندگی دی ہے تو جینے کی ادا بھی دیتے

 زندگی دی ہے تو جینے کی ادا بھی دیتے

درد جب تم نے دیا ہے تو دوا بھی دیتے

مار کر آنکھوں سے ہونٹوں سے جلا بھی دیتے

اپنا اعجاز مسیحائی دکھا بھی دیتے

میں نے ہر حال میں اللہ پہ بھروسہ رکھا

ورنہ تم نام و نشاں میرا مٹا بھی دیتے

ختم کرنے کے لیے دیرو حرم کا قصّہ

آپ پردہ ذرا چہرے سے ہٹا بھی دیتے

اے تخیّل کے شبستان میں رہنے والو

روشنی کا ہمیں پیغام سنا بھی دیتے

ہم کو معلوم ہے فطرت میں تمہاری ہے جفا

کاش بھولے سے کبھی دادِ وفا بھی دیتے

کھو گیا خود ہی گیا ڈھونڈنے جو بھی تم کو

اس میں کیا راز ہے مضطر کو بتا بھی دیتے


مضطر افتخاری

No comments:

Post a Comment