تیری ہر ایک بات پہ دل کو یقیں رہا
تو آگے بڑھ گیا میں وہیں کا وہیں رہا
دل ایسا چُور چُور ہوا تیرے بعد پھر
نہ تو مکاں رہا نہ ہی کوئی مکیں رہا
وہ ایک زخم جس کو بھرا ہے تمام عمر
وہ زخم اس بدن میں کہیں تہہ نشیں رہا
اک شخص پر تمام تھے سارے معاملات
افسوس کہ سبھی رہے اک وہ نہیں رہا
بے حال ہو گئے تھے ہم اس سے بچھڑنے پر
لیکن وہ شخص ویسے کا ویسا حسیں رہا
کونین حیدر
No comments:
Post a Comment