Tuesday, 1 February 2022

تیری ہر ایک بات پہ دل کو یقیں رہا

 تیری ہر ایک بات پہ دل کو یقیں رہا

تو آگے بڑھ گیا میں وہیں کا وہیں رہا

دل ایسا چُور چُور ہوا تیرے بعد پھر

نہ تو مکاں رہا نہ ہی کوئی مکیں رہا

وہ ایک زخم جس کو بھرا ہے تمام عمر

وہ زخم اس بدن میں کہیں تہہ نشیں رہا

اک شخص پر تمام تھے سارے معاملات

افسوس کہ سبھی رہے اک وہ نہیں رہا

بے حال ہو گئے تھے ہم اس سے بچھڑنے پر

لیکن وہ شخص ویسے کا ویسا حسیں رہا


کونین حیدر

No comments:

Post a Comment