جدائی
یہ جرمِ دردِ محبت ہے اور اس کی سزا
محبتوں میں جدائی کا عکس ہوتی ہے
جدائی درد ہے نوحہ ہے آخری ہچکی
ہر ایک اہل محبت کا اندروں احساس
جدائی آنکھ سے ٹپکا ہو گرم آنسو
جدائی آنکھ سے نگلیں تو کھار جیسی ہے
جدائی ساتھ ہے ہردم رہِ محبت میں
بس ایک پاؤں بھی رپٹا تو سامنے موجود
جدائی بین ہے صدیوں سے ڈالتے ہیں سبھی
ہر ایک پریم کہانی کا لازمی عنصر
محبتوں کی امر بیل کا وہی حصہ
جو سبز ڈال سے لپٹے تو زرد ہو جائے
جدائی بولنا آساں۔ مگر ہے سہنا محال
جدائی سخت ہے مشکل، مگر یہ اہل وفا
اسے بہانوں سے حیلوں سے ٹال دیتے ہیں
عینی زا سید
No comments:
Post a Comment