آج یوں اپنے آشیاں سے اٹھے
روح جو جسمِ ناتواں سے اٹھے
اے جہاں دار و با اثر لوگو
آپ ہی بیٹھیۓ ہم یاں سے اٹھے
عمر بھر خانہ بدوشی میں پھرے
آخری وقت کیوں مکاں سے اٹھے
ساتھیو! بے کفن ہی دفنا دو
ہم تو کربل کے کارواں سے اٹھے
عشق کے روز و شب کسے معلوم
حال احوال اس جہاں سے اٹھے
ہائے، سارا بدن ہی چھلنی ہے
درد اٹھے بھی تو کہاں سے اٹھے
کیسے آفاق! دل سکوں پائے
زخم سارے اسی نشاں سے اٹھے
آفاق دلنوی
آفاق احمد راتھر
No comments:
Post a Comment