Tuesday, 1 February 2022

ابھی کہانی میں بچ نکلنے کے راستے ہیں

 ابھی کہانی میں بچ نکلنے کے راستے ہیں

ابھی تو گتنی کی دسترس میں یہ حادثے ہیں

ہمارے ہاتھوں میں نامرادی کی چابیاں ہیں

ہم اپنے کمرے کو اک اذیت سے کھولتے ہیں

یہ شب کو گلیوں میں کون پھرتا ہے سر جھکائے

چراغ طاقوں میں کس کے حصے کا اونگھتے ہیں

کسی طرح سے انہیں حقیقت میں کھینچ لائیں

ہم اپنی آنکھوں کے سبز خوابوں کو اینٹھتے ہیں

وجودِ خاکی کا رنگ و روغن اتر چکا ہے

سو، اپنے حصے کا جتنا جینا تھا جی چکے ہیں

کئی زبانوں نے چکھ لیا ہے نیا زمانہ

کئی زبانوں پہ اب بھی ماضی کے ذائقے ہیں

ملال ہوتا ہے جن کا ٹہنی کو آج قاسم

وہ خشک پتے ہوا نے کب کے اڑا دیے ہیں


قاسم رضا مصطفائی

No comments:

Post a Comment