Tuesday, 1 February 2022

حالت پہ میری خود بھی پشیمان ہو گیا

 حالت پہ میری خود بھی پشیمان ہو گیا

جب دیکھا مجھ کو دیکھ کے حیران ہو گیا

کتنی عجیب بات ہے کیا وقت آ پڑا

اپنے ہی گھر کا راستہ انجان ہو گیا

اُس کے ہی اجتناب نے یہ دن دکھایا ہے

گھر کا کبھی تھا فرد جو مہمان ہو گیا

باغِ حیات و دل کے سبھی موسموں کو چھوڑ

اوروں کی فصلِ گل کا نگہبان ہو گیا

جو اب تلک نہ آئی تصور میں بھی کبھی

پیدا کیوں اس ہی بات کا امکان ہو گیا


نیلما تصور

No comments:

Post a Comment