حالت پہ میری خود بھی پشیمان ہو گیا
جب دیکھا مجھ کو دیکھ کے حیران ہو گیا
کتنی عجیب بات ہے کیا وقت آ پڑا
اپنے ہی گھر کا راستہ انجان ہو گیا
اُس کے ہی اجتناب نے یہ دن دکھایا ہے
گھر کا کبھی تھا فرد جو مہمان ہو گیا
باغِ حیات و دل کے سبھی موسموں کو چھوڑ
اوروں کی فصلِ گل کا نگہبان ہو گیا
جو اب تلک نہ آئی تصور میں بھی کبھی
پیدا کیوں اس ہی بات کا امکان ہو گیا
نیلما تصور
No comments:
Post a Comment