Tuesday, 1 February 2022

شام غم اور اپنی یہ تنہائیاں

 شامِ غم اور اپنی یہ تنہائیاں

اس خرابے میں یادوں کی پروائیاں

زندگی زندگی کو ترسنے لگی

یوں اجل سے ہوئی ہیں شناسائیاں

کتنے عشاق ڈوبے ہیں اس جھیل میں

ان کی آنکھوں میں کتنی ہیں گہرائیاں

اب زمانے میں ہے ان کا چرچا بہت

کام آ ہی گئیں میری رُسوائیاں

ان کی زُلفِ دو تا یاد جب آ گئی

مجھ کو ڈسنے لگیں میری تنہائیاں

میں ہوں مضطر جہاں میں غریب الوطن

مجھ سے رُوٹھی ہیں خود میری پرچھائیاں


مضطر افتخاری

No comments:

Post a Comment