Tuesday, 1 February 2022

آسماں سر پہ اٹھا لوں اگر اجازت ہو

 آسماں سر پہ اٹھا لوں اگر اجازت ہو؟

میں ذرا شور مچا لوں اگر اجازت ہو

زخم جو تم نے لگایا ہے اسی زخم پہ میں

زخم اک اور لگا لوں اگر اجازت ہو

تیرے چہرے سے نظر ہٹ نہیں رہی مری

میں یہاں عمر بِتا لوں اگر اجازت ہو

میں اگر تجھ کو ذرا بھی نہیں اچھا لگتا

خود کو پھر آگ لگا لوں اگر اجازت ہو

خواب ہے یا کہ حقیقت یہ جاننے کے لیے

میں تجھے یاتھ لگا لوں اگر اجازت ہو

آپ کے پاوں کے لائق جگہ نہیں ہے یہاں

اپنی پلکوں کو بچھا لوں اگر اجازت ہو

سب کے زخموں پہ مرہم تم رکھا ہے فیصل

اک غزل میں بھی سنا لوں اگر اجازت ہو


مرزا فیصل

No comments:

Post a Comment