آنکھوں میں تیرتی ہوئی یادوں کی جھیل ہے
یہ دل تجھے بھلانے میں تھوڑا بخیل ہے
ہوتی تھی تیرے ساتھ ہی محسوس زندگی
کہ تیرا ہونا زندگی کی اک دلیل ہے
تصویر تیری دل میں لگائی ہوئی ہے اور
میری گلے میں اٹکی ہوئی اس کی کیل ہے
بچھڑے ہیں تجھ سے تو ہمیں اندازہ یہ ہوا
ایک عام رات سے شب ہجراں طویل ہے
کونین حیدر
No comments:
Post a Comment