Monday, 18 October 2021

آنکھوں میں تیرتی ہوئی یادوں کی جھیل ہے

 آنکھوں میں تیرتی ہوئی یادوں کی جھیل ہے

یہ دل تجھے بھلانے میں تھوڑا بخیل ہے

ہوتی تھی تیرے ساتھ ہی محسوس زندگی

کہ تیرا ہونا زندگی کی اک دلیل ہے

تصویر تیری دل میں لگائی ہوئی ہے اور

میری گلے میں اٹکی ہوئی اس کی کیل ہے

بچھڑے ہیں تجھ سے تو ہمیں اندازہ یہ ہوا

ایک عام رات سے شب ہجراں طویل ہے


کونین حیدر

No comments:

Post a Comment