سارے الفاظ معانی میں گرفتار نہیں
بات کرتے ہیں مگر بات کا اظہار نہیں
میں نے پالا ہے خیالوں کو مروّت کے بغیر
میرے دل میں کسی ہمسایہ کی دیوار نہیں
ہم تو اِس دور کو کہتے نہیں اُس دور کے لوگ
ہم تو بازار سے گُزرے ہیں خریدار نہیں
فکر کی جنگ میں افکار لڑا کرتے ہیں
میرے بچوں کو قلم چاہیے، تلوار نہیں
میرے مالک تُو مجھے وقت کی سرحد سے نکال
صرف لمحوں میں سِمٹنے کو میں تیار نہیں
جانے کیا سوچ کے دریا میں اُتر آیا ہوں
میرے سب لوگ تو اِس پار ہیں، اُس پار نہیں
اس کے اس طرزِ تکلّم کو مصدق سمجھو
جس کو اِنکار سمجھتے ہو، وہ انکار نہیں
مصدق لاکھانی
No comments:
Post a Comment