Sunday, 30 August 2026

سارے الفاظ معانی میں گرفتار نہیں

 سارے الفاظ معانی میں گرفتار نہیں

بات کرتے ہیں مگر بات کا اظہار نہیں

میں نے پالا ہے خیالوں کو مروّت کے بغیر

میرے دل میں کسی ہمسایہ کی دیوار نہیں

ہم تو اِس دور کو کہتے نہیں اُس دور کے لوگ

ہم تو بازار سے گُزرے ہیں خریدار نہیں

فکر کی جنگ میں افکار لڑا کرتے ہیں

میرے بچوں کو قلم چاہیے، تلوار نہیں

میرے مالک تُو مجھے وقت کی سرحد سے نکال

صرف لمحوں میں سِمٹنے کو میں تیار نہیں

جانے کیا سوچ کے دریا میں اُتر آیا ہوں

میرے سب لوگ تو اِس پار ہیں، اُس پار نہیں

اس کے اس طرزِ تکلّم کو مصدق سمجھو

جس کو اِنکار سمجھتے ہو، وہ انکار نہیں


مصدق لاکھانی​

No comments:

Post a Comment