عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے دنیا میں پیغامِ حق لانے والے
اے فخرِ دوعالم کہے جانے والے
مدد کو غلاموں کے آ جانے والے
وہ یاسین و طہ لقب پانے والے
جبل دشت و صحرا کو چمکانے والے
چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
مِرا دل بھی چمکا دے چمکا دینے والے
ہے عالم کی تخلیق تیری بدولت
تِرے ہی توسل سے زینت ہے زینت
ذرا عاصیوں پر بھی چشمِ عنایت
غلامانِ شبیرؑ پا جائیں راحت
خدا سے ملی ہے تجھے پوری قدرت
برستا نہیں دیکھ کر ابرِ رحمت
بدوں پر بھی برسا دے برسانے والے
بنا کر، سجا کر، کھلا تجھ کو رکھے
اور شاداب مولا سدا تجھ کو رکھے
تُو مسکن ہے شاہِ ہدیٰ تجھ کو رکھے
دیا ہے جو حق نے شفا تجھ کو رکھے
مِرے دردِ دل کی دوا تجھ کو رکھے
مدینے کے خطے خدا تجھ کو رکھے
غریبوں، فقیروں کو ٹھہرانے والے
یہ کونین تیرا ہی صدقہ ہے واللہ
ہر اک شئ پہ تیرا ہی قبضہ ہے واللہ
کوئی جانے کیا تیرا رتبہ ہے واللہ
سخی تیرے گھر بچہ بچہ ہے واللہ
جو مردہ کہے خود وہ مردہ ہے واللہ
تُو زندہ ہے واللہ، تُو زندہ ہے واللہ
مِری چشمِ عالم سے چھُپ جانے والے
اے نبیوں میں اعلٰی مجھے ساتھ لے لو
رسولوں میں اولٰی مجھے ساتھ لے لو
اے سلطان والا! مجھے ساتھ لے لو
مدینے کے داتا مجھے ساتھ لے لو
اے جانِ مسیحا مجھے ساتھ لے لو
میں مُجرم ہوں آقاؐ مجھے ساتھ لے لو
کہ رستے میں ہیں جا بجا تھانے والے
نیر جونپوری
No comments:
Post a Comment