Friday, 7 August 2026

اب دل کے کاروبار میں شہرت ذرا سی ہو

 اب دل کے کاروبار میں شہرت ذرا سی ہو

ہم لوگ جب مِلیں تو سہولت ذرا سی ہو

یہ کیا کہ آج یاد کِیا، کل بھُلا دیا

چاہو کسی کو جب بھی تو شِدت ذرا سی ہو

اس دورِ نو میں ملتا ہے اعزاز بھی اسے

جو مطلبی ہو جس میں جہالت ذرا سی ہو

کرنا تو چاہتا ہوں میں تجھ سے کئی سوال

اے التفاتِ یار! عنایت ذرا سی ہو

جس پہ ہے دل فدا مِرا جو ہے مجھے اعزاز

اس کے بھی دل میں کاش محبت ذرا سی ہو

میں جس کے پیار میں ہوا برباد چار سو

اس کے بھی دل میں میری حکومت ذرا سی ہو

کاشف مجھے پسند نہ آیا کبھی وہ شخص

دولت ہو جس پہ خوب پر عزت ذرا سی ہو


کاشف کاش قنوجی

No comments:

Post a Comment