Friday, 21 August 2020

پھولے پھلے ہیں بے سر و سامانیوں میں ہم

پھولے پھلے ہیں بے سر و سامانیوں میں ہم
اک پھول بن کے مہکے ہیں، ویرانیوں میں ہم
اس پیکرِ جمال کے اعجازِ حسن سے
ڈوبے ہیں بن کے آئینہ، حیرانیوں میں ہم
شاید سکوں سے دل کو کوئی ربط ہی نہ تھا
کیا مطمئن رہے ہیں پریشانیوں میں ہم
اُبھرے تو اپنے آپ میں آئے نہ عمر بھر
ڈوبے تھے حسنِ یار کی طغیانیوں میں ہم
اب کیوں کھٹک رہے ہیں جہاں کی نگاہ میں
مشہور کس قدر تھے گل افشانیوں میں ہم
چرچا ہماری سادہ دلی کا ہے شہر میں
بدنام کتنے ہو گئے نادانیوں میں ہم

رضا ہمدانی

No comments:

Post a Comment