پھر اس کے بعد راستہ ہموار ہو گیا
جب خاک سے خیال نمودار ہو گیا
اک داستان گو ہوا ایسا کہ اپنے بعد
ساری کہانیوں کا وہ کردار ہو گیا
سایہ نہ دے سکا جسے دیوار کا وجود
آنکھیں بلند ہوتے ہی محدود ہو گئیں
نظریں جھکا کے دیکھا تو دیدار ہو گیا
وہ دوسرے دیار کی باتوں سے آشنا
وہ اجنبی قبیلے کا سردار♚ ہو گیا
سوئے ہوئے کرینگے ملال اس کا تجزیہ
اس خواب گاہ میں کوئی بیدار ہو گیا
صغیر ملال
No comments:
Post a Comment