Wednesday, 19 August 2020

جب خاک سے خیال نمودار ہو گیا

پھر اس کے بعد راستہ ہموار ہو گیا
جب خاک سے خیال نمودار ہو گیا
اک داستان گو ہوا ایسا کہ اپنے بعد
ساری کہانیوں کا وہ کردار ہو گیا
سایہ نہ دے سکا جسے دیوار کا وجود
اس کا وجود نقش بہ دیوار ہو گیا
آنکھیں بلند ہوتے ہی محدود ہو گئیں
نظریں جھکا کے دیکھا تو دیدار ہو گیا
وہ دوسرے دیار کی باتوں سے آشنا
وہ اجنبی قبیلے کا سردار♚ ہو گیا
سوئے ہوئے کرینگے ملال اس کا تجزیہ
اس خواب گاہ میں کوئی بیدار ہو گیا

صغیر ملال

No comments:

Post a Comment