جس کو طے کر نہ سکے آدمی صحرا ہے وہی
اور آخر مِرے رستے میں بھی آیا ہے وہی
یہ الگ بات کہ ہم رات کو ہی دیکھ سکیں
ورنہ دن کو بھی ستاروں کا تماشا ہے وہی
اپنے موسم میں پسند آیا ہے کوئی چہرہ
ایک لمحے میں زمانہ ہوا تخلیق ملال
وہی لمحہ ہے یہاں، اور زمانہ ہے وہی
صغیر ملال
No comments:
Post a Comment