فلمی گیت
دل تو بچہ ہے جی
تھوڑا کچا ہی جی
ایسی الجھی نظر ان سے ہٹتی نہیں
دانت سے ریشمی ڈور کٹتی نہیں
عمر کب کی برس کے سفید ہو گئی
واللہ یہ دھڑکن بڑھنے لگی ہے
چہرے کی رنگت اڑنے لگی ہے
ڈر لگتا ہے تنہا سونے میں جی
دل تو بچہ ہے جی
تھوڑا کچا ہے جی
کس کو پتا تھا پہلو میں رکھا
دل ایسا پاجی بھی ہو گا
ہم تو ہمیشہ سمجھتے تھے کوئی
ہم جیسا حاجی ہی ہو گا
ہاۓ زور کرے کتنا شور کرے
بے وجہ باتوں پہ ایویں غور کرے
دل سا کوئی کمینہ نہیں
کوئی تو روکے کوئی تو ٹوکے
اس عمر میں اب کھاؤ گے دھوکے
ڈر لگتا ہے عشق کرنے میں جی
دل تو بچہ ہے جی
تھوڑا کچا ہے جی
ایسی اداسی بیٹھی ہے دل پہ
ہنسنے سے گھبرا رہے ہیں
ساری جوانی کترا کے کاٹی
پیری میں ٹکرا گئے ہیں
دل دھڑکتا ہے تو ایسے لگتا ہے وہ
آ رہا ہے یہی دیکھتا ہی نہ ہو
پریم کی ماریں کٹار رے
توبہ یہ لمحے کٹتے نہیں کیوں
آنکھوں سے میرے ہٹتے نہیں کیوں
ڈر لگتا ہے مجھ سے کہنے میں جی
دل تو بچہ ہے جی
تھوڑا کچا ہی جی
گلزار
جنم دن مبارک ہو گلزار جی
No comments:
Post a Comment