Wednesday, 19 August 2020

دل تو بچہ ہے جی

فلمی گیت

دل تو بچہ ہے جی
تھوڑا کچا ہی جی

ایسی الجھی نظر ان سے ہٹتی نہیں
دانت سے ریشمی ڈور کٹتی نہیں
عمر کب کی برس کے سفید ہو گئی
کاری بدری جوانی کی چھٹتی نہیں
واللہ یہ دھڑکن بڑھنے لگی ہے
چہرے کی رنگت اڑنے لگی ہے
ڈر لگتا ہے تنہا سونے میں جی
دل تو بچہ ہے جی
تھوڑا کچا ہے جی

کس کو پتا تھا پہلو میں رکھا
دل ایسا پاجی بھی ہو گا
ہم تو ہمیشہ سمجھتے تھے کوئی
ہم جیسا حاجی ہی ہو گا
ہاۓ زور کرے کتنا شور کرے
بے وجہ باتوں پہ ایویں ‌غور کرے
دل سا کوئی کمینہ نہیں
کوئی تو روکے کوئی تو ٹوکے
اس عمر میں‌ اب کھاؤ گے دھوکے
ڈر لگتا ہے عشق کرنے میں جی
دل تو بچہ ہے جی
تھوڑا کچا ہے جی

ایسی اداسی بیٹھی ہے دل پہ
ہنسنے سے گھبرا رہے ہیں
ساری جوانی کترا کے کاٹی
پیری میں ‌ٹکرا گئے ہیں
دل دھڑکتا ہے تو ایسے لگتا ہے وہ
آ رہا ہے یہی دیکھتا ہی نہ ہو
پریم کی ماریں کٹار رے
توبہ یہ لمحے کٹتے نہیں کیوں
آنکھوں سے میرے ہٹتے نہیں کیوں
ڈر لگتا ہے مجھ سے کہنے میں ‌جی
دل تو بچہ ہے جی
تھوڑا کچا ہی جی


گلزار

جنم دن مبارک ہو گلزار جی

No comments:

Post a Comment