Monday, 19 April 2021

سوچنے کی فرصت نہیں

 سوچنے کی فرصت نہیں


سوز و الم سے

ہُنر کی طرح

کھیلنے والے

پیوند لباس

سوال آشنا

شکستہ چہرے

مجبوری کا کشکول لٹکائے

راہگیروں سے

جھولی بھرتے ہیں

بارش کا پانی

جوہڑ میں کب بدلا

ہمیں یہ سوچنے کی فرصت نہیں

کب ان کے

تنہا، اُداس دل

چیونٹی کی طرح کُچلے گئے

اور کیسے

ہماری بے حسی نے

ان کی آواز کو

التجا کا سوز بخشا

ہمیں یہ سوچنے کی فرصت نہیں


بشریٰ سعید

No comments:

Post a Comment