Monday, 19 April 2021

عین ممکن ہے کوئی مجھ سا ہی پیاسا لا دے

 عین ممکن ہے کوئی مجھ سا ہی پیاسا لا دے

اپنی اس اوک میں بھر کر تجھے دریا لادے

کتنی وحشت ہے میری ہجرزده آنکھوں میں

نیند، اب تُو ہی کوئی خواب سہانا لا دے

کس میں ہمت ہے سدا پشت پہ باندھے اس کو

عمر بھر کون تیرے پیار کا وعده لا دے

زندگی تیرے حوادث سے بہت عاجز ہوں

سانس لینی ہے مجھے چین کا لمحہ لا دے

روز کہتا تھا فرح توڑ کے تارے لا دوں؟

آج میں نے بھی کہا ہے اسے؛ اچھا لا دے


فرح شاہ

No comments:

Post a Comment