لافانی
رُسوا ہو کر بھی
محبت اپنے مرتبے میں
لافانی رہے گی
آتشِ شوق میں جل بھی جائیں تو
ہماری راکھ سے جنم لے گا
اپنے لہو سا نشہ مے میں کہاں
آزمائش کی کسوٹی پر
اپنی قدر جانی جائے گی
عشق کے ترازو میں
رُوح تولی جائے گی
ہم ان تلواروں کو بوسہ دیں گے
جن سے ہماری
گردن اتاری جائے گی
بشریٰ سعید
No comments:
Post a Comment