Friday, 16 April 2021

خواہاں وفا کے ہیں نہ گریزاں جفا سے ہم

 خواہاں وفا کے ہیں نہ گریزاں جفا سے ہم

رکھتے کوئی غرض ہیں تو ان کی رضا سے ہم

بربادئ چمن کی خبر سن کے دوستو

پہروں لپٹ کے روئے ہیں مو جِ صبا سے ہم

اک اک قدم پہ ڈٹ کے کریں گے مقابلہ

گھبرانے والے کب ہیں ہجومِ بلا سے ہم

جی چاہتا ہے اب کسی صحرا میں جا بسیں

گبھرا گئے ہیں شہر کی آب و ہوا سے ہم

نورین بیر ہے نہ کسی رند سے ہمیں

رکھتے ہیں دوستی نہ کسی پارسا سے ہم


صائمہ نورین

No comments:

Post a Comment