خواہاں وفا کے ہیں نہ گریزاں جفا سے ہم
رکھتے کوئی غرض ہیں تو ان کی رضا سے ہم
بربادئ چمن کی خبر سن کے دوستو
پہروں لپٹ کے روئے ہیں مو جِ صبا سے ہم
اک اک قدم پہ ڈٹ کے کریں گے مقابلہ
گھبرانے والے کب ہیں ہجومِ بلا سے ہم
جی چاہتا ہے اب کسی صحرا میں جا بسیں
گبھرا گئے ہیں شہر کی آب و ہوا سے ہم
نورین بیر ہے نہ کسی رند سے ہمیں
رکھتے ہیں دوستی نہ کسی پارسا سے ہم
صائمہ نورین
No comments:
Post a Comment