Friday, 16 April 2021

نہیں یہ بات کہ ہم پر ستم نہیں گرتے

 نہیں یہ بات کہ ہم پر ستم نہیں گرتے

ہمارے ہاتھ سے لیکن قلم نہیں گرتے

کسی نے خون سے لکھا ہوا تھا لہروں پر

بڑے مکان کبھی ایک دم نہیں گرتے

درخت پھر بھی امر ہیں صداقتوں کی طرح

گو ان کے پتے ہواؤں سے کم نہیں گرتے

وہ اور دور کوئی معجزوں کا تھا شاید

کہ اب تو کعبۂ دل کے صنم نہیں گرتے

یہ لوگ کیا ہیں سمندر بھی کوششیں کر لے

ہما کسی کے گرانے سے ہم نہیں گرتے


ہما شاہ

No comments:

Post a Comment