نہیں یہ بات کہ ہم پر ستم نہیں گرتے
ہمارے ہاتھ سے لیکن قلم نہیں گرتے
کسی نے خون سے لکھا ہوا تھا لہروں پر
بڑے مکان کبھی ایک دم نہیں گرتے
درخت پھر بھی امر ہیں صداقتوں کی طرح
گو ان کے پتے ہواؤں سے کم نہیں گرتے
وہ اور دور کوئی معجزوں کا تھا شاید
کہ اب تو کعبۂ دل کے صنم نہیں گرتے
یہ لوگ کیا ہیں سمندر بھی کوششیں کر لے
ہما کسی کے گرانے سے ہم نہیں گرتے
ہما شاہ
No comments:
Post a Comment